ایبولا وائرس کی نئی ویکسین کے انسانی آزمائشی مراحل کا آغاز

Samra Writes
1

ایبولا وائرس کی نئی ویکسین کے انسانی آزمائشی مراحل کا آغاز

 بیماری، علامات اور علاج 

آج کے دور میں جہاں دنیا نئی نئی بیماریوں سے نبردآزما ہے، وہیں طبی سائنس کی دنیا سے ایک بہت بڑی اور امید افزا خبر سامنے آئی ہے۔ حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایبولا وائرس کی ایک انتہائی خطرناک قسم "بنڈی بوگیو"کے خلاف دنیا کی پہلی ویکسین کے انسانی آزمائشی مراحل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں پھیلنے والی اس خطرناک وبا کے بعد اس ویکسین کی تیاری اور ٹرائلز کو عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ ایبولا وائرس کیا ہے، اس کی علامات کیا ہیں اور اس کا علاج کیسے ممکن ہے۔

 ایبولا وائرس کیا ہے؟

ایبولا ایک انتہائی مہلک اور متعدی وائرل بیماری ہے جو انسانوں اور دوسرے جانداروں (جیسے چمگادڑ، بندر اور چنپانزی) میں شدید بخار اور اندرونی و بیرونی خون بہنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ وائرس سب سے پہلے 1976 میں دریائے ایبولا کے قریب دریافت ہوا تھا، جس کی وجہ سے اس کا نام "ایبولا" رکھا گیا۔

ایبولا وائرس کی کئی اقسام ہیں، جن میں سے "Bundibugyo" نامی قسم کے خلاف اب تک کوئی باقاعدہ منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں تھا، اسی لیے آکسفورڈ کی نئی ویکسین کا ٹرائل اس وائرس کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ایبولا وائرس کی معلومات
ایبولا وائرس

 ایبولا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ 

ایبولا وائرس ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا، بلکہ یہ درج ذیل طریقوں سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے

 براہِ راست رابطہ متاثرہ

 شخص کے جسمانی رطوبتوں جیسے خون، تھوک، پسینہ، پیشاب یا قے کے ساتھ براہِ راست رابطے میں آنے سے۔

 آلودہ اشیاء کا استعمال

 متاثرہ مریض کے زیرِ استعمال کپڑے، بستر، سوئیاں یا طبی آلات چھونے سے۔

 متاثرہ جانوروں سے رابطہ 

جنگلی جانوروں (جیسے چمگادڑ یا بندروں) کا کچا یا ادھ پکا گوشت کھانے سے۔

ایبولا وائرس کی علامات

ایبولا کے جراثیم جسم میں داخل ہونے کے 2 سے 21 دنوں کے اندر علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ علامات عام ملیریا یا ڈینگی جیسی لگتی ہیں، جن میں شامل ہیں

 اچانک شدید بخار اور سردی لگنا

 شدید جسمانی درد اور سر درد

 گلے کی سوزش اور شدید کمزوری

 الٹی، ڈائیریا اور پیٹ میں درد

 بیماری بڑھنے کی صورت میں جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں (جیسے ناک، مسوڑھوں اور پاخانے) سے خون آنا۔

ایبولا وائرس کا علاج اور بچاؤ 

فی الحال ایبولا (بنڈی بوگیو اسٹرین) کا کوئی حتمی علاج دریافت نہیں ہوا ہے، تاہم مریض کی جان بچانے کے لیے درج ذیل حفاظتی اور طبی اقدامات کیے جاتے ہیں

 مریض کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے آئسولیشن (تنہائی) میں رکھا جاتا ہے۔

 جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے کے لیے O.R.Sیا IV Fluids (ڈِرپ) دی جاتی ہے، اور بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے کے لیے ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

 نئی ویکسین کی تیاری 

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ نئی ویکسین (ChAdOx1 BDBV) کا انسانی تجربہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ ویکسین اسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس پر کورونا کی ایسٹرازینیکا ویکسین تیار کی گئی تھی۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ نئی ویکسین ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے میں سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوگی۔

احتیاطی تدابیر

 متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کرتے وقت مکمل حفاظتی کٹ (PPE) کا استعمال کریں۔

 صفائی کا خیال رکھیں 

 وبا زدہ علاقوں میں جنگلی جانوروں کے گوشت کے استعمال سے مکمل پرہیز کریں۔

خلا‌صہ 

ایبولا ایک جان لیوا وائرس ضرور ہے، لیکن آکسفورڈ کی نئ ویکسین کے انسانی آزمائشی مراحل کا آغاز انسانیت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ جب تک ویکسین عام عوام کے لیے دستیاب نہیں ہوتی، تب تک صرف احتیاط، صفائی اور بروقت طبی امداد ہی اس وبائی مرض سے بچنے کا واحد اور بہترین حل ہے۔

ایبولا وائرس کے حفاظتی انتظامات
ایبولا وائرس کی ویکسین 

Post a Comment

1Comments
Post a Comment

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !