زیادہ دیر تک سونا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟تحقیق کے سنسنی خیز انکشافات

Samra Writes
3

 زیادہ دیر تک سونا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟تحقیق کے سنسنی خیز انکشافات

ہم میں سے اکثر لوگ نیند کی کمی کے نقصانات سے واقف ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ سونا بھی آپ کی صحت کے لیے اتنا ہی تباہ کن ہو سکتا ہے؟ طبی تحقیقات کے مطابق روزانہ 9 گھنٹے سے زیادہ سونا جسم میں چھپی کس سنگین بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔

اگر آپ رات کو لمبی نیند لینے کے باوجود دن بھر تھکن، سستی اور نیند محسوس کرتے ہیں، تو اسے محض کاہلی نہ سمجھیں یہ ایک اہم طبی مسئلہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ دیر تک سونا کس بیماری کی علامت ہے۔نیند اور صحت کے خطرات

ضرورت سے زیادہ سونا 5 خطرناک بیماریوں کا اشارہ 

طبی ماہرین اور جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق ضرورت سے زیادہ سونا مندرجہ ذیل 5 سنگین بیماریوں کی علامت ہو سکتا ہے:

1.دل کی بیماریاں (Heart Diseases)

طبی تحقیقات کے مطابق جو لوگ روزانہ 9 سے 11 گھنٹے یا اس سے زیادہ سوتے ہیں، ان میں دل کے دورے (Heart Attack) اور فالج (Stroke) کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں 34 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

2.ذیابیطس (Diabetes)

بہت زیادہ سونے سے جسم کا انسولین کنٹرول کرنے کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ 9 گھنٹے سے زائد نیند لینے والے افراد میں خون میں شوگر کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے ذیابیطس کا شکار ہونے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔

3.افسردگی اور ذہنی تناؤ (Depression)

زیادہ سونا اکثر ڈپریشن کی ایک بڑی خاموش علامت ہوتا ہے۔ ذہنی تناؤ کا شکار افراد جذباتی تھکاوٹ سے بچنے کے لیے اکثر نیند کا سہارا لیتے ہیں، لیکن اس سے ان کی ذہنی حالت اور موڈ مزید خراب ہو جاتا ہے۔

4.ہائپراسومنیا (Hypersomnia)

یہ نیند کی ایک مخصوص بیماری ہے جس میں انسان کو دن بھر شدید نیند آتی ہے۔ اس میں مبتلا افراد 10 سے 12 گھنٹے سونے کے بعد بھی خود کو تروتازہ محسوس نہیں کرتے اور ہر وقت سستی طاری رہتی ہے۔

5.موٹاپا اور میٹابولک سنڈروم (Obesity)

زیادہ وقت بستر پر گزارنے سے جسمانی سرگرمی بالکل ختم ہو جاتی ہے، جس سے باڈی کا میٹابولزم سست پڑ جاتا ہے۔ کیلوریز برن نہ ہونے کی وجہ سے وزن تیزی سے بڑھتا ہے اور موٹاپا دیگر بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

ضرورت سے زیادہ سونے کے دیگر صحت پر اثرات

بیماریوں کے علاوہ روزانہ حد سے زیادہ سونے سے جسمانی نظام پر درج ذیل منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں:

سر میں شدید درد (Headache):

زیادہ سونے سے دماغ کے نیورو ٹرانسمیٹرز (خاص طور پر سیروٹونن) کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے صبح اٹھتے ہی سر بھاری اور درد محسوس ہوتا ہے۔

قوتِ مدافعت (Immune System) میں کمی:

 غیر متوازن نیند جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے، جس سے بیماریاں جلدی حملہ آور ہوتی ہیں۔

 دماغی صلاحیت میں کمی:

 حد سے زیادہ نیند دماغی افعال کو سست کر دیتی ہے، جس سے یادداشت اور فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

کس عمر میں کتنی نیند ضروری ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے عمر کے حساب سے نیند کا دورانیہ درج ذیل ہونا چاہیے:

بچوں (1 سے 10سال) کے لیے (10سے14گھنٹے) کی نیند درکار ہے۔

نوجوان (11 سے 17 سال) کے لیے (8 سے 10 گھنٹے) کی نیند درکار ہے۔

بالغ افراد (18 سے 64 سال) کے لیے(7 سے 9 گھنٹے) کی نیند درکار ہے۔

بزرگ افراد (65 سال یا زائد) کے لیے (7 سے 8 گھنٹے) کی نیند درکار ہے۔

عمر کے لحاظ سے نیند کا دورانیہ - کس عمر میں کتنی نیند ضروری ہے؟

اہم نوٹ:

اگر آپ مسلسل 9 یا 10 گھنٹے سے زیادہ سو رہے ہیں اور پھر بھی تھکن اور سستی محسوس کرتے ہیں، تو اسے نظر انداز نہ کریں۔

زیادہ سونے کی عادت سے کیسے بچا جائے؟ (احتیاطی تدابیر)

نیند کا وقت مقرر کریں:

روزانہ ایک ہی وقت پر سوئیں اور صبح ایک ہی وقت پر جاگنے کا معمول بنائیں۔

سکرین ٹائم کم کریں:

سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل، لیپ ٹاپ اور ٹی وی کا استعمال بالکل بند کر دیں۔

صبح کی دھوپ لیں:

صبح اٹھتے ہی کچھ دیر دھوپ میں بیٹھیں، اس سے جسم کا فطری بائیولوجیکل کلاک (Circadian Rhythm) بہتر ہوتا ہے۔

روزانہ ورزش کریں:

دن میں 20 سے 30 منٹ کی ہلکی پھلکی واک یا ورزش کو معمول بنائیں۔

ڈاکٹر سے رجوع کریں:

 اگر تمام تر تدابیر کے باوجود زیادہ نیند اور تھکن کا مسئلہ برقرار رہے تو فوراً کسی مستند فزیشن سے معائنہ کروائیں۔

Post a Comment

3Comments
Post a Comment

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !