NIH ڈینگی الرٹ 2026: ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے آسان طریقے اور علامات
اسلام آباد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) نے ملک بھر میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں، خاص طور پر ڈینگی اور ملیریا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ بارشوں کے اس موسم میں معمولی سی لاپرواہی آپ اور آپ کے خاندان کو ہسپتال پہنچا سکتی ہے۔
اگر آپ خود کو اور اپنے پیاروں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو یہ آرٹیکل آخر تک لازمی پڑھیں کیونکہ اس میں ہم ڈینگی اور ملیریا کی علامات اور ان سے بچاؤ کے آسان طریقے بتانے جا رہے ہیں۔
![]() |
ڈینگی اور ملیریا میں فرق کیا ہے؟
عام طور پر لوگ ڈینگی اور ملیریا کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، لیکن یہ دونوں مختلف مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتے ہیں:
1.ڈینگی بخار
یہ'ایڈیز' (Aedes نامی مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو صاف پانی میں پلتا ہے اور عام طور پر صبح یا شام کے وقت کاٹتا ہے۔
ڈینگی کی علامات
ڈینگی کا مچھر کاٹنے کے بعد مریض میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
تیز بخار:
مریض کو اچانک تیز بخار ہو جاتا ہے جو کئی دن رہتا ہے۔
آنکھوں کے پیچھے درد: ڈینگی کی ایک بڑی علامت آنکھوں کے پچھلے حصے میں شدید درد ہے۔
جوڑوں اور پٹھوں کا درد:
اسے "ہڈی توڑ بخار" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں جسم میں شدید درد ہو
جلد پر سرخ دھبے:
جسم پر چھوٹے چھوٹے سرخ رنگ کے نشانات یا دانے نمودار ہونا۔
خطرناک علامات:
مسوڑھوں یا ناک سے خون آنا اور قے آنا۔ (ایسی صورت میں فوری CBC ٹیسٹ کروائیں)۔
ڈینگی سے بچاؤ کے طریقے
صاف پانی جمع نہ ہونے دی:
ڈینگی کا مچھر صاف پانی میں انڈے دیتا ہے، اس لیے گملوں، بالٹیوں اور پرانے ٹائروں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔
صبح اور شام کے وقت احتیاط:
یہ مچھر دن کے آغاز اور غروبِ آفتاب کے وقت زیادہ فعال ہوتا ہے، اس وقت باہر نکلنے سے گریز کریں۔
2.ملیریا بخار
ملیریا کی علامات
ملیریا کی علامات مچھر کے کاٹنے کے چند دنوں بعد ظاہر ہوتی ہیں:
شدید سردی اور کپکپی:
مریض کو شدید سردی لگتی ہے اور وہ کانپنے لگتا ہے، جس کے بعد تیز بخار ہوتا ہے۔
شدید پسینہ آنا:
جب بخار اترتا ہے تو مریض کو بہت زیادہ پسینہ آتا ہے۔
الٹی اور متلی:
دل خراب ہونا، بھوک نہ لگنا اور خوراک کا ہضم نہ ہونا۔
شدید سر درد:
پٹھوں میں کھچاؤ اور سر میں مسلسل درد رہنا۔
نقاہت اور کمزوری:
جسمانی طور پر شدید تھکن محسوس ہونا۔
ملیریا سے بچاؤ کے طریقے
گندا اور کھڑا پانی ختم کریں: ملیریا کا مچھر جوہروں، نالیوں اور گندے پانی میں پیدا ہوتا ہے۔ اپنے گلی محلوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔
مچھر مار سپرے:
گھر کے اندھیرے کونوں، واش رومز اور نالیوں کے آس پاس باقاعدگی سے مچھر مار سپرے یا کوائل کا استعمال کریں۔
مچھروں سے بچاؤ کی عمومی تدابیر (حکومتِ پاکستان کی ہدایات)
دونوں بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ان باتوں پر لازمی عمل کریں:
پوری آستین والے کپڑے:
بچوں اور بڑوں کو ایسے کپڑے پہنائیں جو جسم کو پوری طرح ڈھانپیں (فل آستین والی قمیضیں اور ٹراؤزر)۔
مچھر بھگاؤ لوشن:
گھر سے باہر نکلتے وقت یا سوتے وقت مچھر بھگاؤ لوشن کا استعمال کریں۔
مچھردانی کا استعمال:
رات کو سوتے وقت مچھردانی کا استعمال سب سے محفوظ طریقہ ہے۔
اہم نوٹ (NIH Alert)
علامات ظاہر ہونے پر خود سے دوائیاں لینے سے سخت گریز کریں، کیونکہ ڈینگی میں کچھ عام ادویات (جیسے ڈسپرین یا اسپرین) خون کو مزید پتلا کر کے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
![]() |
| خود ادویات لینے سے پرہیز اور ڈاکٹر سے رجوع کریں |
خلاصہ
ڈینگی اور ملیریا جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن صرف تھوڑی سی احتیاط سے ہم اس جنگ کو جیت سکتے ہیں۔ اپنے گھر کو صاف رکھیں، پانی جمع نہ ہونے دیں اور علامات ظاہر ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اس معلومات کو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ لازمی شیئر کریں تاکہ سب محفوظ رہ سکیں۔


Nice
ReplyDeleteGood
ReplyDeleteThanks for information 🙂
ReplyDeleteGreat 😃
ReplyDelete