ذہنی صحت اور طرزِ زندگی ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا قدرتی علاج

Samra Writes
2

ذہنی صحت اور طرزِ زندگی: ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا قدرتی علاج

آج کے تیز ترین دور میں جہاں انسان مادی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، وہاں وہ اپنی زندگی کے سب سے اہم حصے یعنی ذہنی صحت کو پیچھے چھوڑتا جا رہا ہے۔ ہم اکثر اپنی جسمانی بیماریوں پر تو فوراً توجہ دیتے ہیں، لیکن جب بات ذہنی تھکن، انزائٹی یا ڈپریشن کی ہو، تو اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
میڈیکل سائنس اور ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ ہماری ذہنی صحت اور طرزِ زندگی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ طرزِ زندگی میں چند مثبت اور آسان تبدیلیاں لا کر ہم ذہنی دباؤ اور ڈپریشن جیسے سنگین مسائل سے قدرتی طور پر چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔
ذہنی صحت
ذہنی صحت اور طرزِ زندگی

ذہنی صحت کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

ذہنی صحت کا مطلب صرف کسی ذہنی بیماری کا نہ ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ہمارے سوچنے، محسوس کرنے، فیصلہ کرنے اور روزمرہ کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت سے ہے۔

:ایک اہم حقیقت

جسمانی صحت کا دارومدار بڑی حد تک ذہنی سکون پر ہوتا ہے۔ جب دماغ پرسکون نہیں ہوگا، تو جسمانی اعضاء بھی صحیح طریقے سے اپنا کام انجام نہیں دے پائیں گے جس کی وجہ سے دائمی تھکن اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے۔"

طرزِ زندگی میں وہ 5 تبدیلیاں جو ذہنی صحت کو بدل سکتی ہیں

اگر آپ اپنے ذہنی دباؤ کو کم کر کے ایک پرسکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تو اپنے روزمرہ کے معمولات میں درج ذیل عادات کو ضرور شامل کریں

 متوازن غذا اور دماغی صحت 

ہم جو کچھ کھاتے ہیں، اس کا براہِ راست اثر ہمارے موڈ پر پڑتا ہے۔ فاسٹ فوڈ اور زیادہ میٹھی چیزیں عارضی طور پر توانائی دیتی ہیں لیکن بعد میں ذہنی سستی اور موڈ کے بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔
 کیا کھائیں
 ہری سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات (اخروٹ اور بادام) اور اومیگا3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور غذائیں دماغی خلیات کو مضبوط کرتی ہیں۔

جسمانی سرگرمی اور ورزش

ورزش کرنے سے جسم میں ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جنہیں "ہیپی ہارمونز" کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمونز قدرتی طور پر ذہنی دباؤ اور اداسی کو کم کرتے ہیں۔
 روزانہ 20 سے 30 منٹ کی واک یا ہلکی ورزش آپ کی ذہنی حالت کو 50 فیصد تک بہتر بنا سکتی ہے۔

 پرسکون اور بھرپور نیند

نیند کی کمی دماغی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے جس سے چڑچڑاپن اور انزائٹی جنم لیتی ہے۔
 روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی گہری نیند لینا ذہنی صحت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور دیگر اسکرینز کا استعمال بند کر دیں۔

 سوشل میڈیا کا محدود استعمال

سوشل میڈیا پر دوسروں کی چمک دمک دیکھ کر اپنے اندر احساسِ کمتری پیدا کرنا آج کل ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔
 دن میں کچھ وقت ٹیکنالوجی سے دوری اختیار کریں اور اپنے خاندان یا مخلص دوستوں کے ساتھ حقیقی وقت گزاریں۔

 مائنڈ فلنس اور مراقبہ 

مراقبہ یا گہرے سانس لینے کی مشقیں ہمارے اعصابی نظام کو پرسکون کرتی ہیں۔ اس سے انسان ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف سے نکل کر موجودہ لمحے میں جینا سیکھتا ہے۔
 

ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کے لیے گھریلو اور قدرتی علاج

طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ آپ درج ذیل گھریلو ٹوٹکوں سے بھی ذہنی سکون حاصل کر سکتے ہیں

 کیمومائل چاۓ

 رات کو سونے سے پہلے کیمومائل چائے کا ایک کپ پینے سے اعصاب پرسکون ہوتے ہیں اور نیند گہری آتی ہے۔

 پودینے کا استعمال

 پودینے کا قہوہ پینے سے ذہنی تھکن دور ہوتی ہے۔

شکر گزاری

 روزانہ رات کو سونے سے پہلے ان 3 چیزوں کو لکھیں جن کے لیے آپ اللہ کے شکر گزار ہیں۔ یہ عادت آپ کے دماغ کو مثبت چیزوں پر توجہ مرکوز کرنا سکھاتی ہے۔
ڈپریشن کا قدرتی علاج
ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا گھریلو اور قدرتی علاج 

حاصلِ کلام

ذہنی صحت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے حاصل کرنا ناممکن ہو۔ یہ ہماری روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی عادتوں کا مجموعہ ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی سے ذہنی دباؤ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں، تو آج ہی سے اپنی غذا، نیند اور سوچنے کے انداز کو بدلیں۔ یاد رکھیں، ایک صحت مند جسم کے اندر ہی ایک صحت مند دماغ بستی ہے اور اس کی شروعات آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔

Post a Comment

2Comments
Post a Comment

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !